حاجی اور عمرہ کرنے والے کے لئے اذکار

نبی ﷺ سے ثابت صحیح ماثور اذکار
میقات, عبادت میں داخل ہونے کی نیت کرے، پھر کہے:
  • عمرہ کرنے والا اور حجِ تمتّع کرنے والا: لبیک عمرۃً، لبیک اللہم لبیک
  • حجِ قران کرنے والا: لبیک عمرۃً وحجًّا، لبیک اللہم لبیک
  • حجِ افراد کرنے والا: لبیک حجًّا، لبیک اللہم لبیک
  • پھر عمرہ کرنے والا اور حجِ تمتّع کرنے والا کعبہ کو دیکھنے تک تلبیہ پڑھتا رہے، جبکہ قارن اور مفرد جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ جاری رکھیں۔
طواف
  • حجرِ اسود کی طرف اشارہ کرے اور ہر چکر کے آغاز میں کہے: اللہ اکبر
    اور چاہے تو پہلے چکر کے آغاز میں بسم اللہ بھی کہہ سکتا ہے۔
  • رکن یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان کہے: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
    ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
  • اگر ممکن ہو تو حاجی طواف کے بعد مقامِ ابراہیم کے پاس جائے اور پڑھے: وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى
    ترجمہ: مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔
  • طواف کے بعد دو رکعتوں میں سے
    - پہلی رکعت میں: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ
    - دوسری رکعت میں: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھے
سعی
  • صفا کے قریب پہنچ کر پڑھے: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ
    ترجمہ: بے شک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔
    اور کہے: أبدأ بما بدأ الله به
    میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔
  • صفا پر چڑھ کر قبلہ رخ ہو کر کہے: اللہ اکبر، الحمد للہ
    پھر یہ ذکر پڑھے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
    پھر دعا کرے، پھر یہ ذکر دہرائے پھر دعا کرے، پھر یہ ذکر دہرائے پھر دعا کرئے۔ پھر مروہ پر جانے کے لئے نیچے اترے اور صفا اور مروہ دونوں پر یہی عمل کرے۔
  • نوٹ: طواف اور سعی کے چکروں کے لیے کوئی خاص مقرر دعا نہیں، مسلمان جو چاہے مفید دعا اور ذکر کر سکتا ہے۔
آٹھ ذوالحجہ
  • حجِ تمتّع کرنے والا احرام باندھے اور کہے: لبیک حجًّا، لبیک اللہم لبیک
  • قارن اور مفرد تو پہلے ہی میقات سے حج کے احرام میں ہوتے ہیں۔
نو ذوالحجہ (یوم عرفہ)
  • منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے حاجی تلبیہ یا تکبیر میں مشغول رہے، دونوں نبی ﷺ اور صحابہ سے ثابت ہیں۔
  • عرفہ کے دن کثرت سے یہ دعا پڑھے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
    اور زوال کے بعد غروبِ آفتاب تک دعا میں مشغول رہے۔
دس ذوالحجہ
  • فجر کے بعد اگر ممکن ہو تو مزدلفہ میں مشعر الحرام آئے، ورنہ جہاں ہو وہیں اللہ سے دعا کرے، تکبیر کہے اور حمد بیان کرے۔
  • جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارتے وقت ہر کنکری کے ساتھ کہے: اللہ اکبر
    اسی وقت حاجی کا تلبیہ ختم ہو جاتا ہے۔
  • پھر طوافِ افاضہ، دو رکعت نماز اور حج کی سعی میں وہی اذکار کرے جو عمرہ میں ذکر ہوئے۔
ایامِ تشریق (١١، ١٢، ١٣ ذوالحجہ)

جمرہ صغریٰ کو رمی کرتے ہوئے ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، پھر آگے بڑھ کر قبلہ رخ دعا کرے اور لمبی دعا کرے۔ پھر درمیانے جمرہ کو رمی کرتے وقت ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، پھر بائیں جانب ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر لمبی دعا کرے۔ پھر جمرہ کبریٰ کو رمی کرتے ہوئے ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، اس کے بعد دعا نہ کرے۔

طوافِ وداع
  • اس میں بھی وہی اذکار کرے جو عمرہ کے طواف میں کیے تھے۔