آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں (1) ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے (2) اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے (3) اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی) (4) اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے (5)
آپ کہہ دیجئے! کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی (1) لوگوں کے مالک کی (اور) (2) لوگوں کے معبود کی (3) وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے (4) جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے (5) (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے (6)
اللہ سب سے بڑا ہے
تمام تعریف اللہ کے لئے ہے
”اے اللہ! میں نے اپنی جان کو تیرا فرمانبردار بنا لیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر لیا، اپنی کمر تیرے لئے جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، نہ تجھ سے بھاگ کر جانے کی کوئی پناہ ہے نہ راہ نجات ہے مگر تیری طرف ہی، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“
سورۃ السجدۃ اور سورۃ الملک پڑھے۔
”اے اللہ! غیب اور حاضر کو جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور مالک میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان کے ساتھ برائی کروں ۔“
”تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا، ہمیں کافی ہوا، اور ہمیں پناہ دی، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہیں نہ ہی کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ ہی کوئی پناہ دینے والا۔“
”اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے رب، اور عرش عظیم کے رب، ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، اور تورات، انجیل، اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جسے تو پیشانی کے بالوں سے پکڑے ہوئے ہے، اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو غالب ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو ہی باطن ہے تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں، ہمارا قرض ادا فرما دے اور ہمیں محتاجی سے خوشحالی عطا فرما۔“
اللہ پاک ہے
”اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔“
”اے اللہ! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔“
”اے اللہ! یقیناً تو نے ہی میرے نفس کو پیدا کیا ہے اور تو ہی اسے وفات دے گا، تیرے لئے ہی اس کا مرنا اور جینا ہے، اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما، اور اگر تو اسے مار دے، تو اسے بخش دے، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“
”اے میرے رب! میں نے تیرے نام کے ساتھ اپنا پہلو رکھا اور تیرے نام کے ساتھ ہی اسے اٹھاؤں گا، اگر تو میری جان کو روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو نے اسے چھوڑ دیا، تو اس کی حفاظت اس طرح فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔“
رسول ایمان لائے اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے*اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده مکلف نہیں کرتا، جو نیکی وه کرے وه اسی کے لئے ہے، اور جو برائی وه کرے وه اسی پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔
”اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا اور (سب کو) قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کر سکے۔ جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے سب کو جانتا ہے، لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جو وہ چاہے، اسی کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں، اور وہ بلند ہے عظمت والا ہے۔
”اے نبی! کہہ دیجئے اللہ ایک ہی ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔“