شام کے اذکار

شام کے اذکار

آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں (1) ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے (2) اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے (3) اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی) (4) اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے (5)

آپ کہہ دیجئے! کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے پروردگار کی (1) لوگوں کے مالک کی (اور) (2) لوگوں کے معبود کی (3) وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے (4) جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے (5) (خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے (6)

اے اللہ! تو درود نازل کر ہمارے نبی محمد پر

”میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ساتھ اس کی مخلوق کے شر سے، پناہ میں آتا ہوں۔“

میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کى بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں

اللہ اپنى حمد کے ساتھ پاک ہے

”ہم نے شام کی فطرت اسلام، کلمہ اخلاص، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی ملّت پر جو کہ یکسُو مسلمان تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔“

”ہم نے شام کی اور اللہ رب العالمین کی بادشاہت (کائنات وغیرہ) نے شام کی، اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کى بھلائى, اس کى فتح اور نصرت, اس کا نور , اس كى بركت ہدایت مانگتا ہوں اور اس کے شر اور اس کے بعد کے شر سے تیرى پناہ لیتا ہوں۔

”اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے قائم رکھنے والے، تیری رحمت کے ساتھ ہی میں مدد مانگتا ہوں، میری مکمل حالت درست فرما دے، اور مجھے لحظہ بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر۔“

”میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نبی ہونے پر راضی ہوا۔“

”اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ نہ زمین میں اور نہ ہی آسمان میں کوئی چیز نقصان دے سکتی ہے، اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔“

”اے اللہ! غیب اور حاضر کو جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور مالک میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کے ساتھ برائی کروں۔“

”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میرے پوشیدہ امور پر پردہ ڈال اور میری گھبراہٹوں میں مجھے امن دے، اے اللہ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے، میرے اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری عظمت کے ساتھ پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جاؤں۔“

”میرے لئے اللہ ہی کافی ہے جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔“

”اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے، اے اللہ! مجھے میری سماعت میں عافیت دے، اے اللہ! مجھے میری بصارت میں عافیت دے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، اے اللہ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔“

”اے اللہ! مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر شام کے وقت جو بھی نعمت اتری تو وہ صرف تیری طرف سے ہی ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تیرے لئے ہی تمام تعریفات اور تیرے لئے ہی شکر ہے۔“

”اے اللہ! میں نے شام کی، میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والے فرشتوں اور تمام فرشتوں، اور تیری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اور یقینا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور رسول ہیں۔“

”اے اللہ! تو میرا رب ہے تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں، جتنی مجھ میں طاقت ہے، جو (خطا، گناہ) میں نے کیا اس کے شر سے تیرے پناہ میں آتا ہوں، میں تیرے لئے اپنے اوپر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں، اور اپنے گناہ کا بھی اقرار کرتا ہوں، مجھے بخش دے کیونکہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔“

”اے اللہ! ہم نے تیرے نام کے ساتھ شام کی، تیرے نام کے ساتھ صبح کی، تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہم مرتے ہیں اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔“

”ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت (کائنات وغیرہ) نے شام کی، تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفات اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے میرے رب! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی اور جو اس کے بعد بھلائی ہے کا سوال کرتا ہوں، اور میں اس رات کے شر اور جو اس کے بعد شر ہے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے میرے رب! میں سُستی، اور بُرے بڑھاپے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے میرے رب! میں آگ میں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

”اے نبی! کہہ دیجئے اللہ ایک ہی ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا، نہ اس سے کوئی جنا گیا، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔“

”اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا اور (سب کو) قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کر سکے۔ جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے سب کو جانتا ہے، لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جو وہ چاہے، اسی کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں، اور وہ بلند ہے عظمت والا ہے۔