یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «یومِ عرفہ کے روزہ (کے بارے میں) میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کے ذریعے گزشتہ ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ فرما دے«(صحیح مسلم)۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ رکھنے والے کے دو سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ اگر صغیرہ گناہ نہ ہوں تو کبیرہ گناہوں میں تخفیف کی امید ہے، اور اگر کبیرہ بھی نہ ہوں تو درجات کی بلندی عطا کی جاتی ہے“۔
********
• یومِ عرفہ کا روزہ اُن لوگوں کے لیے جن پر رمضان کی قضا باقی ہو
جس شخص پر رمضان کے روزوں کی قضا باقی ہو، وہ یومِ عرفہ کا روزہ رکھ سکتا ہے؛ کیونکہ قضا کا وقت وسیع ہوتا ہے۔ البتہ اگر مسلمان ان بابرکت دس دنوں کو غنیمت جان کر ان میں قضا روزے رکھنے کی پہل کرے تو یہ اس کے لئے اجرعظیم کا باعث بنے گا۔
امام بیہقی نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا”: مجھے ان دس دنوں سے زیادہ کوئی دن محبوب نہیں ہیں جن میں میں رمضان کی قضا کروں“۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جس پر رمضان کی قضا ہو، وہ اسے مؤخر کر سکتا ہے… لیکن وہ(عورت) یومِ عرفہ کے روزے کے ساتھ قضا کی نیت کیوں نہیں کر لیتی، اگر وہ قضا کی نیت کر لیتی ہے تو اس صورت میں امید ہے کہ اسے دوہرا اجر ملے گا: ایک قضا کا اجر، اور دوسرا نفل روزے کا اجر“۔