ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو عمل ان (دس) دنوں میں کیا جائے، اس کے مقابلے میں دوسرے دنوں کا کوئی عمل افضل نہیں ہے‘‘۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’جہاد بھی ان کے برابر نہیں سوائے اس شخص کے جس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا اور کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا ‘‘ ۔(صحیح بخاری)۔
امام احمد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:” اللہ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے اور ان میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ محبوب کوئی دن نہیں۔ لہٰذا ان دنوں میں کثرت سےتہلیل (لا الہ الا الله)، تکبیر (الله اكبر) اور تحمید (الحمد لله) کیا کرو۔
********
•ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کی خصوصیات اور ان کی فضیلت کے اسباب
1. اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کی قسم کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْفَجْرِ * وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾، ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیالی عشر سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔
2. یہ وہی (ایام معلومات) ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ﴾، ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ابن عباس کے نزدیک ایامِ معلومات سے مراد یہی دس دن ہیں۔
3. اللہ تعالیٰ کو ان دنوں میں کیے گئے اعمال سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہ دن اعمالِ صالحہ کے اعتبار سے سال کے سب سے افضل ایام ہیں۔
4. ان دنوں میں زمانے کی فضیلت جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے، اور مقام کی فضیلت جو کہ خاص طور پر اہلِ مکہ اور حجاج کے لیے ہے، یہ دونوں شرف جمع ہوجاتے ہے۔
5. ان دنوں میں عبادت کی تمام بڑی اقسام جمع ہو جاتی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ذی الحجہ کے دس دنوں کی فضیلت کے سبب کے بارے میں یہ چیز سمجھ میں آتی ہے کہ ان میں عبادت کی تمام بنیادی اقسام جمع ہو جاتی ہیں، جیسے: نماز، روزہ، صدقہ اور حج—جو کہ کسی اور وقت میں نہیں ہوتا۔
6. ان دنوں میں یومِ عرفہ پایا جاتا ہے۔ یہ وہ”یومِ مشہود“ ہے جس دن اللہ نے دین کو مکمل فرمایا، اور اس دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
7. ان دنوں میں یوم النحر یعنی قربانی کا دن (10 ذی الحجہ) آتا ہے، اور یہ پورے سال کا سب سے عظیم دن ہے، اور یہی دن ”یوم الحج الاکبر: حج اکبر کا دن“کہلاتا ہے، جس میں بے شمار عبادات جمع ہوتی ہیں جو کسی اور دن میں اکٹھا نہیں ہوتیں۔
8. انہی دنوں میں قربانی کا حکم ہے، جس کا آغاز 10 ذی الحجہ سے ہوتا ہے ۔
********
عشرۂ ذی الحجہ کی تاکید شدہ عبادات میں سے ہے: تکبیر، تہلیل اور تحمید کی کثرت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ﴾ تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اﷲ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اﷲ کے نام کا ذکر بھی کریں۔[الحج: 28]۔
اور سابقہ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پس ان (دس دنوں) میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کیا کرو۔“
امام بخاری نے تعلیقاً بصیغۂ جزم روایت کیا ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم عشرۂ ذی الحجہ کے دنوں میں بازار کی طرف نکلتے، اور بلند آواز سے تکبیر کہتے، اور ان کی تکبیر کی وجہ سے لوگ بھی تکبیر کہنا شروع کر دیتے تھے۔
مراد یہ ہے کہ لوگ ان کی تکبیر سن کر خود انفرادی طور پر تکبیر کہتے تھے۔ جہاں تک اجتماعی تکبیر کا تعلق ہے، تو یہ مشروع نہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو عمل ان (دس) دنوں میں کیا جائے، اس کے مقابلے میں دوسرے دنوں کا کوئی عمل افضل نہیں ہے‘‘۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’جہاد بھی ان کے برابر نہیں سوائے اس شخص کے جس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا اور کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا ‘‘ ۔(صحیح بخاری)۔
امام احمد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:” اللہ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے اور ان میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ محبوب کوئی دن نہیں۔ لہٰذا ان دنوں میں کثرت سےتہلیل (لا الہ الا الله)، تکبیر (الله اكبر) اور تحمید (الحمد لله) کیا کرو۔
********
•ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کی خصوصیات اور ان کی فضیلت کے اسباب
1. اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کی قسم کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْفَجْرِ * وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾، ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیالی عشر سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔
2. یہ وہی (ایام معلومات) ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ﴾، ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ابن عباس کے نزدیک ایامِ معلومات سے مراد یہی دس دن ہیں۔
3. اللہ تعالیٰ کو ان دنوں میں کیے گئے اعمال سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہ دن اعمالِ صالحہ کے اعتبار سے سال کے سب سے افضل ایام ہیں۔
4. ان دنوں میں زمانے کی فضیلت جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے، اور مقام کی فضیلت جو کہ خاص طور پر اہلِ مکہ اور حجاج کے لیے ہے، یہ دونوں شرف جمع ہوجاتے ہے۔
5. ان دنوں میں عبادت کی تمام بڑی اقسام جمع ہو جاتی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ذی الحجہ کے دس دنوں کی فضیلت کے سبب کے بارے میں یہ چیز سمجھ میں آتی ہے کہ ان میں عبادت کی تمام بنیادی اقسام جمع ہو جاتی ہیں، جیسے: نماز، روزہ، صدقہ اور حج—جو کہ کسی اور وقت میں نہیں ہوتا۔
6. ان دنوں میں یومِ عرفہ پایا جاتا ہے۔ یہ وہ”یومِ مشہود“ ہے جس دن اللہ نے دین کو مکمل فرمایا، اور اس دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
7. ان دنوں میں یوم النحر یعنی قربانی کا دن (10 ذی الحجہ) آتا ہے، اور یہ پورے سال کا سب سے عظیم دن ہے، اور یہی دن ”یوم الحج الاکبر: حج اکبر کا دن“کہلاتا ہے، جس میں بے شمار عبادات جمع ہوتی ہیں جو کسی اور دن میں اکٹھا نہیں ہوتیں۔
8. انہی دنوں میں قربانی کا حکم ہے، جس کا آغاز 10 ذی الحجہ سے ہوتا ہے ۔
********
عشرۂ ذی الحجہ کی تاکید شدہ عبادات میں سے ہے: تکبیر، تہلیل اور تحمید کی کثرت
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ﴾ تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اﷲ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اﷲ کے نام کا ذکر بھی کریں۔[الحج: 28]۔
اور سابقہ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پس ان (دس دنوں) میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کیا کرو۔“
امام بخاری نے تعلیقاً بصیغۂ جزم روایت کیا ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم عشرۂ ذی الحجہ کے دنوں میں بازار کی طرف نکلتے، اور بلند آواز سے تکبیر کہتے، اور ان کی تکبیر کی وجہ سے لوگ بھی تکبیر کہنا شروع کر دیتے تھے۔
مراد یہ ہے کہ لوگ ان کی تکبیر سن کر خود انفرادی طور پر تکبیر کہتے تھے۔ جہاں تک اجتماعی تکبیر کا تعلق ہے، تو یہ مشروع نہیں۔