اضحيہ (قربانی ) اور اس کے احکام

اضحیہ اس جانور کو کہتے ہیں جو عیدِ قربان کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کیا جائے۔
مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ قربانی مشروع عمل ہے، اور جمہور علما کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔(صحیح مسلم)۔ اس حدیث میں نبی ﷺ نے قربانی کو ارادے کے ساتھ مشروط کیا ہے، اور ارادہ وجوب پر دلالت نہیں کرتا۔ بیہقی کی صحیح روایت کے مطابق ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما قربانی نہیں کرتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اسے واجب نہ سمجھ بیٹھیں۔ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں قربانی چھوڑ دیتا ہوں، حالانکہ میں تم میں سب سے زیادہ وسعت رکھنے والوں میں سے ہوں، اس لیے کہ لوگ اسے فرض نہ سمجھ لیں۔(اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے)۔ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام میں سے کسی ایک سے بھی قربانی کے واجب ہونے کا قول صحیح ثابت نہیں ہے۔
********
قربانی کے چار بنیادی شرائط
1. قربانی کا جانور بہیمۃ الانعام میں سے ہو۔ یعنی اونٹ، گائے ، بکری یا دنبہ۔ ان کے علاوہ کوئی جانور قربانی میں جائز نہیں۔
2. قربانی کا جانور اس عمر کو پہنچا ہو جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہے، جیسے: اونٹ: پانچ سال، گائے: دو سال، بکری: ایک سال، دنبہ: چھ ماہ، چنانچہ اگر جانور مقررہ عمر سے کم ہو تو علماء کا اتفاق ہے کہ قربانی درست نہیں ہوگی۔
3. جانور عیبوں سے پاک ہو۔ یعنی ایسے عیوب نہ ہوں جو قربانی کے صحیح ہونے سے مانع ہوں۔ (تفصیل آگے آئے گی)
4. قربانی مقررہ وقت میں کی جائے۔ (اس کی وضاحت آگےآئےگی)
********
• ایک بکری ایک شخص کی طرف سے کافی ہے، جبکہ اونٹ اور گائے سات افراد کی طرف سے:
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس قربانی کے لیے ایک مینڈھا لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اسے لیا، لٹایا، پھر ذبح کیا اور فرمایا: بسم اللہ (اللہ کے نام سے) ، اے اللہ! اسے محمد ، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرما۔(صحیح مسلم)۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے سال اونٹ کو سات افراد کی طرف سے اور گائے کو بھی سات افراد کی طرف سے ذبح کیا۔ (صحیح مسلم)۔
********
قربانی کے لیے شرط ہے کہ جانور عیبوں سے پاک ہو:
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں: وہ کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو، وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، وہ لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، وہ کمزور اور ٹوٹا پھوٹا جانور جس میں گوشت اور گودا نہ ہو۔(احمد و اصحابِ سنن)۔
1. لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو،یہ وہ جانور جو لنگڑے پن کی وجہ سے صحت مند جانوروں کے ساتھ چل نہ سکے۔
2. کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو، وہ جانور جس کی آنکھ دھنس گئی ہو یا باہر نکل آئی ہو اور وہ واضح طور پر کانا ہو۔ جہاں تک اندھے جانور کا تعلق ہے، تو وہ تو بدرجۂ اولیٰ جائز نہیں ہے۔
3. وہ بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو جیسے: شدید کمزوری، جلد تھک جانا، کھانے کی رغبت کم ہونا، بخار جس کی وجہ سے چرنا مشکل ہو جائے، خارش (جرب) جو گوشت کو خراب کر دے اور ہر وہ بیماری جسے لوگ واضح بیماری سمجھتے ہوں۔
4. کمزور یا ہڈیوں کا ڈھانچہ، وہ جانور جو اتنا دُبلا ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا باقی نہ رہے۔ ایسا جانور تمام ائمہ کے اتفاق سے قربانی میں جائز نہیں۔
********
ذبح کے وقت کیا کہنا چاہیے؟
ذبح کرتے وقت مشروع الفاظ یہ ہیں: بِسْمِ اللّٰهِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اس میں سے بسم اللہ کہنا واجب ہے، جبکہ تکبیر کہنا سنت ہے۔ تسمیہ اور تکبیر دونوں کہنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے دو سفید، سینگوں والے مینڈھے قربانی کیے۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنے مبارک ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ، اللہ اکبر کہا، اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھا۔
********
قربانی کرنے کا وقت:
- قربانی کا وقت نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہمارے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں، پھر واپس آکر قربانی کرتے ہیں، جس نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔ اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا، تو اس نے صرف اپنے گھر والوں کے لیے گوشت کا انتظام کردیا،اس نے قربانی نہیں کی۔
اسی طرح صحیحین میں جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا، وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے۔ اور جس نے ذبح نہیں کیا یہاں تک کہ ہم نے نماز پڑھ لی تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
- قربانی کا وقت ایامِ تشریق کے تیسرے دن سورج غروب ہونے تک ہے۔ اس طرح قربانی کے دن کل چار ہوتے ہیں۔