حج کا حکم: حج اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اس کی فرضیت پر قرآن، سنت اور اجماع سب دلالت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔[آل عمران: 97]۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے… اور ان میں سے ایک بیت اللہ کا حج ہے۔[بخاری و مسلم]۔
علماء نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ حج اسلام کا رکن ہے۔
حج زندگی میں ایک بار فرض ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، لہٰذا حج کرو۔ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ آپ ﷺ خاموش رہے، اس نے تین بار یہی سوال دہرایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا، اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے (صحیح مسلم)۔
حج ادا کرنےکے فضائل:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہی ہے۔(بخاری و مسلم)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر کا حج کیا، اور اس میں نہ بے حیائی کی اور نہ گناہ، وہ ایسے لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔(بخاری و مسلم)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ۔پوچھا گیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد ۔ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: حجِ مبرور۔(بخاری و مسلم)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حجِ مبرور: وہ حج ہے جو مقبول ہو، یہ بھی کہا گیا: جس میں گناہ شامل نہ ہو،اور یہ بھی کہا گیا: جو خالص ہو۔(فتح الباری 1/87)۔
حج کا حکم: حج اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اس کی فرضیت پر قرآن، سنت اور اجماع سب دلالت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔[آل عمران: 97]۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے… اور ان میں سے ایک بیت اللہ کا حج ہے۔[بخاری و مسلم]۔
علماء نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ حج اسلام کا رکن ہے۔
حج زندگی میں ایک بار فرض ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، لہٰذا حج کرو۔ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ آپ ﷺ خاموش رہے، اس نے تین بار یہی سوال دہرایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا، اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے (صحیح مسلم)۔
حج ادا کرنےکے فضائل:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہی ہے۔(بخاری و مسلم)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر کا حج کیا، اور اس میں نہ بے حیائی کی اور نہ گناہ، وہ ایسے لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔(بخاری و مسلم)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ۔پوچھا گیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد ۔ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: حجِ مبرور۔(بخاری و مسلم)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حجِ مبرور: وہ حج ہے جو مقبول ہو، یہ بھی کہا گیا: جس میں گناہ شامل نہ ہو،اور یہ بھی کہا گیا: جو خالص ہو۔(فتح الباری 1/87)۔